مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، عمان کے وزیر خارجہ بدر بن حمد البوسعیدی نے خلیج فارس کے خطے میں جامع سکیورٹی نظام تشکیل دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس نظام میں خلیج فارس کے تمام آٹھ ساحلی ممالک، یعنی خلیج فارس تعاون کونسل کے چھ رکن ممالک، عراق اور ایران شامل ہونے چاہییں۔
انہوں نے برطانیہ کی کیمبرج یونیورسٹی کے گیرٹن کالج میں خطاب کرتے ہوئے گزشتہ دو برسوں کے علاقائی حالات کا حوالہ دیا اور کہا کہ خلیج فارس کی سلامتی کا معاملہ اب علاقائی عدم تحفظ، دیرینہ کشیدگی، اہم بحری راستوں کو لاحق خطرات اور مسلح تنازعات کی طویل تاریخ سے جڑ چکا ہے۔ ان تنازعات میں 1980 کی دہائی میں ایران اور عراق کی جنگ، 1991 میں کویت کی جنگ اور ایران کے خلاف حالیہ امریکی اور اسرائیلی جنگ شامل ہیں۔
عمانی وزیر خارجہ نے کہا کہ عمان بھی علاقائی عدم تحفظ کے اثرات سے متاثر ہوتا ہے۔ اگرچہ ان کے ملک کے اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ پُرامن تعلقات ہیں، تاہم عمان کی سلامتی اس کے ہمسایہ ممالک کی سلامتی سے وابستہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مسقط علاقائی اختلافات کے حل، اعتماد سازی اور خطے میں امن کے فروغ کے لیے کوششیں کرتا رہا ہے۔
البوسعیدی نے گزشتہ دو برسوں کے دوران علاقائی مذاکرات کے دو اہم مراحل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پہلے مرحلے میں ایران اور امریکہ کے درمیان عمان کی ثالثی میں بالواسطہ مذاکرات ہوئے، جن کے دور مسقط، روم اور جنیوا میں منعقد کیے گئے۔ ان مذاکرات کے تحت اپریل اور مئی 2025 میں پانچ اور رواں سال فروری میں تین دور ہوئے۔ ان کا مقصد ایران کے جوہری پروگرام پر دونوں ممالک کے اختلافات حل کرنا اور 47 سالہ باہمی مخاصمت کا خاتمہ کرنا تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ مذاکرات کا دوسرا مرحلہ 17 جون کو ایران اور امریکہ کے درمیان مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کے بعد شروع ہوا۔ ان کے مطابق، اس معاہدے کے نتیجے میں 28 فروری کو شروع ہونے والی مسلح کشیدگی رک گئی، جبکہ ایران کے جوہری معاملے پر مذاکرات جاری رہے۔
عمانی وزیر خارجہ کے مطابق، دوسرے مرحلے میں عمان اور ایران کے درمیان مذاکرات ہوئے، جن کا مقصد آبنائے ہرمز میں آزادانہ جہاز رانی کو یقینی بنانے کے لیے انتظامات پر اتفاق رائے پیدا کرنا تھا۔
انہوں نے کہا کہ عمان کا اب بھی یہ خیال ہے کہ مذاکرات کے پہلے مرحلے میں ایران اور امریکہ کے درمیان نمایاں پیش رفت ہوئی تھی اور معاہدہ طے پانے کے امکانات موجود تھے۔
انہوں نے کہا کہ آج بھی کسی معاہدے کے بنیادی نکات موجود ہیں، بشرطیکہ دونوں ممالک مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ کریں تاہم جنگ کے خاتمے کے بعد ایران اور امریکہ کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانا مشکل ہوگیا ہے۔ ان کے مطابق، مذاکرات کی بحالی کے لیے ایک اہم قدم آبنائے ہرمز میں آزادانہ جہاز رانی کی بحالی سے متعلق اتفاق رائے پیدا کرنا ہوگا۔
انہوں نے بتایا کہ عمان اور ایران کے درمیان اعلیٰ سطح کے مذاکرات اور تکنیکی مشاورت کے نتیجے میں ایک عبوری معاہدے کا خاکہ تیار کیا گیا ہے، لیکن اس منصوبے کو بھی سیاسی رکاوٹوں کا سامنا ہے۔ ان کے مطابق، اس معاہدے پر عمل درآمد کے لیے ایران اور امریکہ دونوں کو رعایتیں دینے اور عملی مفاہمت تک پہنچنے کے لیے تیار ہونا ہوگا۔ اس سلسلے میں جنگ کے دوران کیے گئے بعض اقدامات سے پیچھے ہٹنا بھی ضروری ہوسکتا ہے، کیونکہ ان اقدامات کے باعث بیشتر بحری آمدورفت رک گئی ہے۔
عمان کے وزیر خارجہ نے کہا کہ حالیہ مذاکرات سے ملنے والا اہم سبق یہ ہے کہ خطے میں موجودہ سکیورٹی انتظامات ناکافی ہیں۔ ان کے مطابق، خلیج فارس کے ممالک جن مسائل کو خود علاقائی سطح پر حل کرسکتے ہیں، مشترکہ سکیورٹی نظام کی عدم موجودگی کے باعث وہ مزید پیچیدہ ہوگئے ہیں اور بعض اوقات ان کا حل انتہائی مشکل یا ناممکن بن جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ علاقائی سلامتی کے موجودہ انتظامات بیرونی طاقتوں کی شرکت پر حد سے زیادہ انحصار کرتے رہے ہیں۔ ایران کے جوہری معاملے اور آبنائے ہرمز میں آزادانہ جہاز رانی کے مسائل بھی اسی غیر مستحکم صورت حال کا نتیجہ ہیں، جس میں طاقت کا مظاہرہ اور بیرونی ممالک پر انحصار نمایاں ہے۔
البوسعیدی کے مطابق، جب بیرونی طاقتیں علاقائی معاملات میں شرکت کی شرائط طے کرتی ہیں، لیکن خطے کے ممالک اپنے سکیورٹی نظام کی تشکیل اور اس پر اتفاق رائے کی ذمہ داری خود نہیں اٹھاتے، تو مسائل کا حل مزید مشکل ہوجاتا ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ خلیج فارس کے ممالک کو اپنی سلامتی کی ذمہ داری جامع انداز میں خود سنبھالنی چاہیے اور اس مقصد کے لیے ایسا نظام تشکیل دینا چاہیے جس میں خلیج فارس کے تمام آٹھ ساحلی ممالک شامل ہوں۔
عمانی وزیر خارجہ نے کہا کہ گزشتہ تقریباً نصف صدی سے ایران کو منظم انداز میں علاقائی سکیورٹی نظام میں اہم کردار ادا کرنے سے محروم رکھا گیا ہے۔ ان کے مطابق، اس پالیسی کے منفی نتائج صرف ایران تک محدود نہیں رہے بلکہ پورا خطہ ان سے متاثر ہوا ہے۔
ان کے مطابق، بیرونی طاقتوں کی سکیورٹی پالیسیوں کے ساتھ ان کے اپنے سیاسی مقاصد اور قومی مفادات بھی وابستہ رہے ہیں، جو ہمیشہ خلیج فارس کے ممالک اور وہاں کے عوام کے مفادات سے ہم آہنگ نہیں تھے۔
البوسعیدی نے کہا کہ بیرونی طاقتوں کی جانب سے مسلط کردہ ترجیحات میں سب سے زیادہ نقصان دہ ترجیح ایران کو علاقائی سکیورٹی نظام سے باہر رکھنا تھی۔ ان کے مطابق، معاملہ صرف ایران کو الگ رکھنے تک محدود نہیں رہا بلکہ اسے ایک ایسے خطرے کے طور پر پیش کیا گیا جس کے خلاف علاقائی سکیورٹی نظام تشکیل دیا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ خلیج فارس کے آٹھ ساحلی ممالک کے درمیان مستحکم تعلقات قائم کرنے کے بجائے ایسا علاقائی نظام تشکیل دیا گیا جو اس مفروضے پر مبنی تھا کہ ایران اور خلیج فارس کے عرب ممالک کے درمیان فطری دشمنی موجود ہے۔
عمانی وزیر خارجہ نے اس تصور کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایران اور عرب ممالک کے درمیان بعض اختلافات ضرور موجود ہیں، لیکن ان کے درمیان کوئی فطری دشمنی نہیں ہے۔ ان کے مطابق، عرب اور ایرانی عوام صدیوں سے خلیج فارس کے اطراف میں پُرامن طور پر زندگی گزارتے آئے ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ اصل سوال یہ نہیں کہ علاقائی ممالک ایران کے دوست بنیں یا اس کے مخالف، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ تقریباً 9 کروڑ 30 لاکھ آبادی، تین ہزار سالہ تاریخ اور خلیج فارس کی ساحلی پٹی کے تقریباً نصف حصے کے حامل ایران کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔
البوسعیدی نے کہا کہ خلیج فارس کے لیے ایسا کوئی بھی سکیورٹی نظام جس میں ایران شامل نہ ہو، بنیادی طور پر غیر مستحکم اور ساختی اعتبار سے نامکمل ہوگا۔ ان کے مطابق، حالیہ واقعات نے ایران کو خارج رکھنے اور اس کے ساتھ دشمنی کے مفروضے پر مبنی پالیسی جاری رکھنے کی بھاری قیمت واضح کردی ہے۔
آپ کا تبصرہ